Ishq mahroom tha, kaash tu dekhta

इश्क़ महरूम था, काश तू देखता Ishq mahroom tha, kaash tu dekhta kitna maGHmoom tha, kaash tu dekhta chashm-e num ka tabassum tiri yaad meiN kaisa ma’soom tha, kaash tu dekhta mera afsana-e dard tha KHoobtar aur manzoom tha, kaash tu dekhta mere GHum se faqat tu hi tha beKHabar sab ko ma’loom tha, kaash tu dekhta aankhoN se hoNToN... Continue Reading →

hayāt dauḌtī hai umr bhar qazā kī taraf

حیات دوڑتی ہے عمر بھر قضا کی طرف حیات دوڑتی ہے عمر بھر قضا کی طرف جزاۓ خیر کی جانب کہ پھر سزا کی طرف مقام_فکر ہے یہ، سمت_فکر ٹھیک نہیں سفر ہے تیز، مگر ہے کہاں خدا کی طرف رہے میانہ روی، ہے یہی طریقہء عدل جھکیں نہ صفر کی جانب نہ انتہا کی طرف نہ جانے کیسا... Continue Reading →

Fourth Lesson of Wazn Shairi

One clarification before going forward: If a word is followed by another word which begins with alif, the two words can be pronounced in a different way changing the original wazn of the words. For example, aaKHir is dard kee dawaa kyaa hai In this shair the wazn of aaKHir is22 and is is also... Continue Reading →

Third Lesson of Wazn Shairi

Once the mathematical wazn of different words is clear, it is not difficult to fit them into different bahrs. It is to be noted that in every misra, same sequence of 2 and one has to be followed; Normally a 2 cannot be broken into 11, but in certain bahrs this is allowed, but it... Continue Reading →

altaaf ki barish hai gumraah shareeoN par

अलताफ़ की बारिश है गुमराह शरीरों पर الطاف کی بارش ہے گمراہ شریروں پر https://www.instagram.com/p/BOm0y-ag3IE/الطاف کی بارش ہے گمراہ شریروں پر طوفاں ہیں مصائب کے نیکی کے سفیروں پر جب زیست میں آئے گا، دیکھے گا تعجب سے بیٹھا ہوں تری خاطر الفت کے ذخیروں پر رہتا ہوں تخیل میں سائے میں ستاروں کے لکھی ہے مری قسمت شنبنم کی... Continue Reading →

jaisī hai badan meñ gul-ruḳh ke vaisī hī nazākat bātoñ meñ

جیسی ہے بدن میں گل رخ کے ویسی ہی نزاکت باتوں میں جیسی ہے بدن میں گل رخ کے ویسی ہی نزاکت باتوں میں ہونٹوں میں ہے جتنی شیرینی اتنی ہی حلاوت باتوں میں کیا خوب توازن چلنے میں کیا خوب لطافت ہنسنے میں کیا خوب اداؤں میں شوخی کیا خوب شرارت باتوں میں آنکھوں میں ہے نشہ... Continue Reading →

jee kahaaN bharta hai, kitnee bhi hoN teyree baateiN

جی کہاں بھرتا ہے کتنی بھی ہوں تیری باتیں جی کہاں بھرتا ہے کتنی بھی ہوں تیری باتیں جی بھرے کیسے کہ ہیں تیری نرالی باتیں لوگ کہتے ہیں کہ باتیں ہیں تمہاری قاتل ہم یہ کہتے ہیں کہ امرت ہیں تمہاری باتیں اوروں سے ہوتی ہمیشہ ہے ترے حسن کی بات خود سے ہوتی ہیں ترے ناز و... Continue Reading →

shab-o roz meiN hai sabaat kab

شب وروز میں ہے ثبات کب شب وروز میں ہے ثبات کب ہے مری حیات حیات کب نہ پتہ چلا تری یاد میں ہوئی صبح کب گئی رات کب مرے دن پہ چھائی ہیں دوریاں مری رات وصل کی رات کب بھلا آتا کیا ترے خواب میں ترا آئنہ مری ذات کب مرے دوست دیکھیں گے رشک سے مرے ہاتھ میں... Continue Reading →

hosh us kā hai be-ḳhudī us kī

ہوش اس کا ہے بے خودی اس کی ہوش اس کا ہے بے خودی اس کی زندگی کی ہر اک گھڑی اس کی دور تک ملگجا سا سناٹا اور آہٹ کبھی کبھی اس کی عشق میرا ہے صوفیوں جیسا صرف مطلوب ہے خوشی اس کی دل کو ہونٹوں سے دور رکھتا ہے مار ڈالے گی خامشی اس کی تیرگی چھا... Continue Reading →

aap se batoN ka meeTHa silsila shab bhar chala

آپ سے باتوں کا میٹھا سلسلہ شب بھر چلا آپ سے باتوں کا میٹھا سلسلہ شب بھر چلا میں تو تنہا تھا یہ کیسا سلسلہ شب بھر چلا ایک لمحہ کی جھلک کے تھے ہزاروں زاویے اور اسی اک پل سے پیدا سلسلہ شب بھر چلا ہر جہت افکار کی رکھتی تھی جہتیں بے شمار سلسلوں پہ سلسلوں کا... Continue Reading →

vo chāñdnī meñ kuchh aisā thā tar-ba-tar tanhā

وہ چاندنی میں کچھ ایسا تھا تر بہ تر تنہا وہ چاندنی میں کچھ ایسا تھا تر بہ تر تنہا میں دیکھتا رہا منظر یہ رات بھر تنہا ہوئی ہے جیسے ابھی تک گزر بسر تنہا گزار ڈالیں گے باقی کا بھی سفر تنہا پکارتا ہوں ترا نام جیسے صحرا میں ہمیشہ آتی ہے آواز لوٹ کر تنہا عقاب... Continue Reading →

Karta hai bekaar ki baateiN, kaam ki koee baat naheeN

کرتا ہے بیکار کی باتیں، کام کی کوئی بات نہیں کرتا ہے بیکار کی باتیں، کام کی کوئی بات نہیں غیروں جیسی بات ہے تیری، اپنوں جیسی بات نہیں جام سبھی کے ہاتھوں میں ہے، ہاتھ ہمارے خالی ہیں کھلم کھلا نا انصافی ساقی اچھی بات نہیں محفل میں جسکو بھی دیکھو روٹھا روٹھا لگتا ہے کڑواہٹ ہے آوازوں... Continue Reading →

sooraj dooba nikli raat

سورج ڈوبا نکلی رات سورج ڈوبا نکلی رات دن تھا چھوٹا لمبی رات پیٹ تھا دن بھر ساتھ مرے لے آئی تنہائی رات انکی شب نے دیکھے خواب جاگی میری ساری رات کاش کبھی دیکھے تو بھی تنہا سونی کالی رات آئی اماوس تو اک دن چاند کو بھی لے ڈوبی رات پوچھ نہیں کیا گزری جب بادل گرجا چمکی رات گرمی... Continue Reading →

Zulm o sitam ki KHaatir kya main hi rah gaya huN

ظلم و ستم کی خاطر کیا میں ہی رہ گیا ہوں ظلم و ستم کی خاطر کیا میں ہی رہ گیا ہوں دنیا میں ایک صابر کیا میں ہی رہ گیا ہوں جس کو بھی دیکھتا ہوں دل توڑتا ہے میرا جذبات_ دل پہ قادر کیا میں ہی رہ گیا ہوں لہجے ہیں سب کے روکھے، الفاظ بھی... Continue Reading →

aik pur-kaif qayaamat ka taqaaza hai faqat

ایک پر کیف قیامت کا تقاضا ہے فقط ایک پر کیف قیامت کا تقاضا ہے فقطزلزلے جیسی محبّت کا تقاضا ہے فقط سامنے ہوکہ نہ ہو مجھ کو نظر آئے مگروقت_ خلوت میں بھی جلوت کا تقاضا ہے فقط لذتیں اور بھی آئیں گی ترے ساتھ کے ساتھآج دیدار کے شربت کا تقاضا ہے فقط میں... Continue Reading →

dekhi haiN KHoob azal se hi matlaq-AnaaniyaaN

دیکھی ہیں خوب ازل سے ہی مطلق عنانیاں دیکھی ہیں خوب ازل سے ہی مطلق عنانیاں میں ہوں عوام، رہتا ہوں مظلومیوں کے بیچ مانا کہ قید و بند میں ہے زندگی عذاب بربادیاں زیادہ ہیں آزادیوں کے بیچ مرکز پہ ہو گیا ہے تسلط گناه کا رہتی ہیں نیکیاں بھی، مگر حاشیوں کے بیچ کرتا ہے کوئی میرا... Continue Reading →

rahte the jab zahn pe chhaye eik zamaana beet gaya

رہتے تھے جب ذہن پہ چھا ئے، ایک زمانہ بیت گیا رہتے تھے جب ذہن پہ چھا ئے، ایک زمانہ بیت گیا ان کے غم میں رین بتا ئے، ایک زمانہ بیت گیا یادوں کی زلفیں لہرائے ایک زمانہ بیت گیا ان میں کوئی پھول سجائے، ایک زمانہ بیت گیا تنہائی میں بھی جب تنہا رہ نہ کبھی... Continue Reading →

wahi din hai KHauf-o hiraas ka, wahi marHala bhi hai pyaas ka

وہی دن ہے خوف و ہراس کا، وہی حال ابھی بھی ہے پیاس کا وہی دن ہے خوف و ہراس کا، وہی حال ابھی بھی ہے پیاس کا وہی شام بستر_مرگ سی وہی سلسلہ شب یاس کا وہی آسماں ہے وہی فضا, وہی نشہ شام پہ ہے بپا وہی دور شہر سے ہے جگہ, وہی سبز فرش ہے... Continue Reading →

Apni be-kaifi-e haalaat ka Hal deikh liya

اپنی بے کیفئ حالات کا حل دیکھ لیا اپنی بے کیفئ حالات کا حل دیکھ لیا اسکی چاہت میں ہر اک رنگ غزل دیکھ لیا جسم پر سکتہ سا طاری تھا نگاہیں بیہوش ان کو دیکھا تو لگا تاج محل دیکھ لیا تیرے ہونٹوں پہ ہنسی دیکھی تو دل جھوم اٹھا کانپ اٹھا دل جو ترے ماتھے پہ بل... Continue Reading →

maana ke hameiN kuchh waqt laga, phir saari

مانا کہ ہمیں کچھ وقت لگا، پھر ساری حقیقت جان گئے مانا کہ ہمیں کچھ وقت لگا، پھر ساری حقیقت جان گئے تم لاکھ چھپا لو چہرے کو، ہم خوب تمہیں پہچان گئے سینے میں بسا کر رکھیں گے، پلکوں پہ بٹھا کررکھیں گے اب زیست میں داخل ہو جاؤ، ہر شرط تمھاری مان گئے جب آئے تو... Continue Reading →

jawaab zeest ko har eik kyuN ka mil jay

جواب زیست کو ہرایک کیوں کا مل جائے جواب زیست کو ہرایک کیوں کا مل جائے خرد کے ساتھ سہارا جنوں کا مل جائے تمام عمر اسی انتظار میں گزری کبھی کہیں کوئی لمحہ سکوں کا مل جائے دل و دماغ پہ قبضہ ہے عشق_ دنیا کا کہیں سے توڑ کوئی اس فسوں کا مل جائے اسی تلاش میں... Continue Reading →

javed jaanta huN shahaadat ka martaba

جاوید جانتا ہوں شہادت کا مرتبہ جاوید جانتا ہوں شہادت کا مرتبہ لونگا مزہ حیات کا جام_ قضا میں میں javed jaanta huN shahaadat ka martaba looNga mazaa hayaat ka jam-e qazaa meiN maiN

ye wo maqaam hai hoti jahaaN hai maut ki maut

یہ وہ مقام ہے ہوتی جہاں ہے موت کی موت یہ وہ مقام ہے ہوتی جہاں ہے موت کی موت کہ نام قرب کی معراج کا ہے قربانی ye wo maqaam hai hoti jahaaN hai maut ki maut ki naam qurb ki meiraaj ka hai qurbaani

uski razaa meiN meri razaa, zindagi ki maut

اسکی رضا میں میری رضا، زندگی کہ موت اسکی رضا میں میری رضا، زندگی کہ موت یہ بندگی ہے کیا، مری دیوانگی سے پوچھ uski razaa meiN meri razaa, zindagi ki maut ye bandagee hai kya, meri deewaangee se poochh

mujhe aisi zaat se Ishq hai, jo ho mahrabaaN to hai maut kab

مجھے ایسی ذات سے عشق ہے، جو ہومہربان تو موت کب مجھے ایسی ذات سے عشق ہے، جو ہومہربان تو موت کب ہے فنائیت میں نہاں بقا، ہے بقا اگر تو فنا نہیں mujhe aisi zaat se Ishq hai, jo ho mahrabaaN to hai maut kab hai fanaaiyat meiN nihaN baqa, hai baqa agar to fana nahIN

aa gaye paas, na ruk, aur baRHa de raftaar

آ گئے پاس، نہ رک، اور بڑھا دے رفتار آ گئے پاس، نہ رک، اور بڑھا دے رفتار راہ_منزل میں ابھی چند قدم اور بھی ہیں ہم اگر مٹ بھی گئے، حق نہیں مٹنے والا جنکو اٹھنا ہے ابھی، حق کے علم اور بھی ہیں ہم نے ٹھکرا کے صنم سارے، چنا ایک خدا وہ ہمیں آکے بتاتے ہیں صنم اور... Continue Reading →

hai dushman ka lashkar ye aur hur nahiN hai

ہے دشمن کا لشکر یہ اور حر نہیں ہے جہاں حق کا کوئی تصور نہیں ہے وہ لڑتا ہے اپنے تسلط کی خاطر وہ ظالم تو ہوگا بہادر نہیں ہے میں ہوں خوب اوصاف سے اپنے واقف مگر میرے اندر تکبر نہیں ہے hai dushman ka lashkar ye aur hur nahiN hai jahaaN haq ka koi tasawwur nahiN hai... Continue Reading →

jahaN hai dAwa taraqqiyoN ka, wahin tabaahi machi hui hai

جہاں ہے دعویٰ ترقیوں کا، وہیں تباہی مچی ہوئی ہے غزل ڈاکٹر جاوید جمیل جہاں ہے دعویٰ ترقیوں کا، وہیں تباہی مچی ہوئی ہے جسے وہ کہتے ہیں فصل_شیریں وہ فصل ساری گلی ہوئی ہے نجوم و شمس و قمر، کواکب، بروج و طارق، شہاب_ثاقببحمد_رب سجدہ ریز ہیں سب کہ بزم_عالم سجی ہوئی ہے نہ دل میں فرحت نہ... Continue Reading →

hawa KHamosh, shajar chup, ruka hua paani

hawa KHamosh, shajar chup, ruka hua paani alaamateiN heiN yahi, raat hogi toofaani hamaari aaNkhoN ki weeraaniyoN pe GHaur na kar hamaare seenoN ki kaifiyyateiN hain heejaani ye wo maqaam hai hoti jahaN hai maut ki maut ki naam qurb ki meiraaj ka hai qurbaani ہوا خموش، شجر چپ، رکا ہوا پانی علامتیں ہیں یہی، رات ہوگی طوفانی ہماری... Continue Reading →

رب سے دل_ناداں کے سوالات ہیں کچھ اور

rab sey dil-e naadaaN ke sawaalaat haiN kuchh aur غزل از ڈاکٹر جاوید جمیل رب سے دل_ناداں کے سوالات ہیں کچھ اور اور حکمت_یزداں ہے، عنایات ہیں کچھ اور مقصود تو کچھ اور ہیں، حالات ہیں کچھ اور دعوے ہیں بلند اورعلامات ہیں کچھ اور باقی نہیں رہتی کوئی جب دل میں تمنا وہ راہ_محبّت کے مقامات ہیں کچھ اور... Continue Reading →

Zahn ko markooz rakhkho, hausala qaayam rahe

ذہن کو مرکوز رکھو، حوصلہ قائم رہے کوششیں کرتے رہو، ایجاد بھی ہو جائے گی اک معیّن وقت ہے شیطان تیرے واسطے جلد ہی پوری تری میعاد بھی ہوجائے گی کیا پتہ تھا زیست کو جاوید از راہ_ فریب آرزوے جنت_ شداد بھی ہو جائے گی Zahn ko markooz rakhkho, hausala qaayam rahe koshisheiN karte raho, iijaad(1) bhi ho... Continue Reading →

Sach to ye hai ki wahi shams-o qamar rahte haiN

سچ تو یہ ہے کہ وہی شمس و قمر رہتے ہیں پھر بھی کیوں روز نئے شام و سحر دیکھتا ہوں سب چمکتے ہوئے پتھر کی طرف دیکھتے ہیں منبع_نور جدھر ہے میں ادھر دیکھتا ہوں سجدے میں “سبع سماوات” کے سر دیکھتا ہوں بارہا دیکھا “بصر” نے کوئی پایا نہ “فطور”* *سورہ ملک ٣-٤ میں مصائب سے... Continue Reading →

GHam nahiN koi zamaane meiN muhabbat ke siwaa

غزل ڈاکٹر جاوید جمیل غم نہیں کوئی زمانے میں محبت کے سوا پاس کیا ہے مرے محرومیء_حسرت کے سوا میری مظلوم محبت تجھے کاش آتی نظر چارہ کچھ اور نہ تھا تیری عنایت کے سوا اسنے خود اپنے لئے ڈھونڈھ لیا شہر_بہار پاس کیا ہے مرے ویرانہء_ فرقت کے سوا راحت_وصل سے بڑھکر نہیں کوئی راحت راحتیں یوں ہیں بہت... Continue Reading →

MAIN SAHAR KA MUNTAZIR THA

main sahar ka muntazir tha, meri muntazir sahar thi mujhe zulmatoN meN rakhti shab-e iztaraar kab tak jo KHaleefa-e KHuda hai wo shah-e bahisht hoga tu bata chalega shaytaaN tera iqtadaar kab tak

Na mujhey sahee, mere aks ko kabhi dekh dil meiN utaar ke

غزل ڈاکٹر جاوید جمیل نہ مجھے سہی مرے عکس کو دل و جاں میں دیکھ اتار کے کبھی تو بھی تو مری یاد میں کوئی شام دیکھ گزار کے خم_زلف اپنے ہی ہاتھ سے تو نکالتا رہا آج تک کبھی دیکھ زلفوں کو جھومتے مری انگلیوں سے سنوار کے جو بدن کو دیتے تھے تازگی، دل و جاں... Continue Reading →

Ghazal: apnoN ko suna kar haal apna

اپنوں کو سنا کر حال اپنا ہم خود کو رسوا کیسے کریں اپنوں کو سنا کر حال اپنا ہم خود کو رسوا کیسے کریں غیروں پہ بھروسہ کر بھی لیں، اپنوں پہ بھروسہ کیسے کریں سمجھے نہ اشارے آنکھوں کے، سمجھے نہ مطالب جملوں کے محبوب اگر مائل ہی نہ ہو، اظہار_تمنا کیسے کریں دل دل سے گلے... Continue Reading →

Amal se pahle amal ka usool yaad bhi hai?

عملسے پہلے عمل کا اصول یاد بھی ہے یقیں خدا پہ، خود اپنے پہ اعتماد بھی ہے تو عبد_عام نہیں ہے کہ تو ہے “عبد_منیب” تلاش_حق میں تدبر بھی، اجتہاد بھی ہے بغیر انکے ادھوری ہے داستان_ رسول حدیبیہ بھی ہے، ہجرت بھی ہے، جہاد بھی ہے خدا کا حق تو ہے اول مگر رہے... Continue Reading →

Chupke se qareeb aana, phir door nikal jana

غزل از ڈاکٹر جاوید جمیل چپکے سے قریب آنا، پھر دور نکل جانا ہر پل کا مقدّر ہے ماضی میں بدل جانا کر کر کے تری باتیں، پڑھ پڑھ کے ترا چہرہہر صنف_سخن سیکھی، ہر رنگ غزل جانا اک فرض ہے ہستی پر ہر پل کی پذیرائیتاریخ کا شیوہ ہے صدیوں کو نگل جانا پڑتی ہیں... Continue Reading →

dasht-e furqat meiN teri yaad ki aaGHosh, Ghazab

غزلاز ڈاکٹر جاوید جمیل دشت _فرقت میں تری یاد کی آغوش، غضب!لب تھے گویا ترے اور میں ہمہ تن گوش، غضب! سرسراہٹ تھی محبت کی فقط اور ہم تھےجس طرف دیکھیے، ماحول تھا خاموش، غضب! یاد کے ہونٹوں پہ رقصاں تھے سریلے نغمےجسم بیہوش تھا اور جان تھی مدہوش، غضب! ایسا لگتا تھا، ہر اک... Continue Reading →

Website Powered by WordPress.com.

Up ↑

Design a site like this with WordPress.com
Get started